المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مصعب الأسلمي باب: سیدنا مصعب اسلمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُصْعَبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: انْطَلَقَ غُلَامٌ مِنَّا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ سُؤَالًا، قَالَ: «وَمَا هُوَ؟» قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَنِي مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: «مَنْ أَمَرَكَ بِهَا - أَوْ مَنْ عَلَّمَكَ بِهَذَا؟ - أَوْ مَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا -؟» قَالَ: مَا أَمَرَنِي بِهَذَا أَحَدٌ إِلَّا نَفْسِي، قَالَ: «فَإِنَّكَ مِمَّنْ أَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، فَذَهَبَ الْغُلَامُ جَذْلَانَ لِيُخْبِرَ أَهْلَهُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: «رُدُّوا عَلَيَّ الْغُلَامَ» فَرَدُّوهُ كَئِيبًا مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ فِيهِ شَيْءٌ قَالَ: «أَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ»سیدنا مصعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم میں سے ایک لڑکا نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور عرض کیا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں شامل کر دیں جن کی آپ قیامت کے دن سفارش کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں یہ کس نے کہا - یا کس نے سکھایا - یا کس نے اس کی طرف رہنمائی کی؟“ اس نے کہا: مجھے کسی نے نہیں کہا، بس میرے دل نے چاہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تم انہی میں سے ہو جن کی میں قیامت کے دن سفارش کروں گا۔“ وہ لڑکا خوشی خوشی اپنے گھر والوں کو بتانے کے لیے چل پڑا، لیکن جب وہ مڑا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لڑکے کو میرے پاس واپس لاؤ۔“ لوگ اسے غمگین حالت میں واپس لائے، انہیں خدشہ تھا کہ کہیں اس کے بارے میں کوئی بات ہو گئی ہو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کثرت سے سجدہ کر کے اپنے آپ کی سفارش میں میری مدد کرو۔“