المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من أخباره باب: ان کے بعض واقعات
حدیث نمبر: 17975
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ فُطِنِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ حِينَ رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «أَشْهَدُ أَنَّكُمْ أَحْيَاءُ عِنْدَ اللهِ فَرُدُّوهُمْ وَصَلُّوا عَلَيْهِمْ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ إِلَّا رَدُّوا عَلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ احد سے واپسی پر مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہداء کے پاس سے گزرے تو ان کے پاس رک گئے اور فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کے ہاں زندہ ہو، تو انہیں سلام کا جواب دو اور ان پر درود بھیجو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، جو بھی انہیں سلام کرتا ہے وہ قیامت کے دن تک اس کا جواب دیتے ہیں۔“