المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محيصة بن مسعود الأنصاري باب: سیدنا محیصہ بن مسعود انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَتْنِي بِنْتُ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ ظَفِرْتُمْ بِهِ مِنْ رِجَالِ يَهُودَ فَاقْتُلُوهُ» فَوَثَبَ مُحَيِّصَةُ عَلَى ابْنِ سُنَيْنَةَ - رَجُلٌ مِنْ تُجَّارِ يَهُودَ كَانَ يُلَابِسُهُمْ وَيُبَايِعُهُمْ - فَقَتَلَهُ، وَكَانَ حُوَيِّصَةُ إِذْ ذَاكَ لَمْ يُسْلِمْ، وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ مُحَيِّصَةَ، فَلَمَّا قَتَلَهُ جَعَلَ حُوَيِّصَةُ يَضْرِبُهُ وَيَقُولُ: أَيْ عَدُوَّ اللهِ قَتَلْتَهُ؟ أَمَا وَاللهِ لَرُبَّ شَحْمٍ فِي بَطْنِكَ مِنْ مَالِهِ، فَقُلْتُ: «وَاللهِ لَوْ أَمَرَنِي بِقَتْلِكَ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ» ، قَالَ: فَوَاللهِ إِنْ كَانَ لَأَوَّلَ إِسْلَامِ حُوَيِّصَةَ، قَالَ: وَاللهِ لَئِنْ أَمَرَكَ مُحَمَّدٌ بِقَتْلَى لَتَقْتُلَنِي؟ قَالَ مُحَيِّصَةُ: «نَعَمْ وَاللهِ» ، قَالَ حُوَيِّصَةُ: فَوَاللهِ إِنَّ دِينًا بَلَغَ هَذَا إِنَّهُ لَعَجَبٌ، فَأَسْلَمَ حُوَيِّصَةُسیدنا محیصہ بن مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی اپنے والد سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہود کے جس مرد پر تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو۔“ چنانچہ محیصہ نے ابن سنینہ پر حملہ کیا - وہ یہود کے تاجروں میں سے ایک آدمی تھا جو ان کے ساتھ میل جول اور کاروبار رکھتا تھا - اور اسے قتل کر دیا۔ اس وقت حویصہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، اور وہ محیصہ سے بڑے تھے، جب محیصہ نے اسے قتل کیا تو حویصہ انہیں مارنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! تو نے اسے قتل کر دیا؟ سن لے، اللہ کی قسم! تیرے پیٹ میں اکثر چربی اسی کے مال سے پلی ہے۔ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اگر مجھے تیرے قتل کا بھی حکم دیا جاتا تو میں تیری گردن بھی مار دیتا۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہی وہ واقعہ تھا جو حویصہ کے اسلام قبول کرنے کا پہلا سبب بنا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر محمد تجھے میرے قتل کا حکم دیں تو تو مجھے بھی قتل کر دے گا؟ محیصہ نے کہا: ”ہاں، اللہ کی قسم!“ حویصہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو دین اس مقام تک پہنچ گیا ہو وہ واقعی عجیب ہے۔ چنانچہ حویصہ مسلمان ہو گئے۔