المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محجن أبو بسر الديلي باب: سیدنا محجن ابوبسر دیلی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ فِي بَيْتِيَ الظُّهْرَ - أَوِ الْعَصْرَ - ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَحَوْلَهُ نَاسٌ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ، ثُمَّ خَرَجَ فَوَجَدَنِي جَالِسًا فِي مَجْلِسِي الَّذِي عَهِدَنِي فِيهِ فَقَالَ: «أَلَسْتَ رَجُلًا مُسْلِمًا؟» فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لِمُسْلِمٌ، قَالَ: «فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ فَتُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟» قُلْتُ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّيْتَ فِي أَهْلِكَ، ثُمَّ جِئْتَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ يُصَلُّونَ فَصَلِّ مَعَهُمْ»سیدنا محجن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے گھر میں ظہر - یا عصر - کی نماز پڑھی، پھر مسجد کی طرف نکلا تو رسول اللہ ﷺ کو بیٹھا ہوا پایا اور آپ کے اردگرد لوگ تھے، تو میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا، پھر نماز کھڑی ہوئی، رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر باہر تشریف لائے تو مجھے اسی جگہ بیٹھا ہوا پایا جہاں آپ نے مجھے چھوڑا تھا، فرمایا: ”کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! میں مسلمان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اندر آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ میں نے عرض کیا: میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے گھر میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد آؤ اور لوگوں کو نماز پڑھتے پاؤ تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھو۔“