المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد الله بن عدي بن الخيار، عن المقداد باب: عبیداللہ بن عدی بن خیار کی سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو فَارِسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَاخْتَلَفْتُ أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ، فَأَبَانَ إِحْدَى يَدَيَّ فَضَرَبْتُهُ، ثُمَّ قَدَرْتُ عَلَى قَتْلِهِ، فَقَالَ حِينَ أَرَدْتُ أَنْ أَهْوِيَ إِلَيْهِ بِسِلَاحِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَقْتُلُهُ أَمْ أَتْرُكُهُ؟ قَالَ: «بَلِ اتْرُكْهُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنْ قَطَعَ إِحْدَى يَدَيَّ؟ قَالَ: «وَإِنْ فَعَلَ» ، فَرَاجَعْتُهُ فَقَالَ: " إِنْ قَتَلْتَهُ بَعْدَ أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَهَا، وَهُوَ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ "سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ - جو رسول اللہ ﷺ کے شہسوار تھے، بنو کندہ کے ایک فرد اور بنو زہرہ کے حلیف تھے - کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا خیال ہے اگر میری اور مشرکوں میں سے کسی شخص کی مڈبھیڑ ہو جائے اور ہم دو دو وار کریں، وہ میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالے تو میں اسے وار کروں، پھر میں اسے قتل کرنے پر قدرت پا جاؤں، تو جب میں اپنے ہتھیار سے اس کی طرف جھپٹنے لگوں تو وہ کہے: 'اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں'، تو کیا میں اسے قتل کروں یا چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اسے چھوڑ دو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! چاہے اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چاہے اس نے ایسا کیا ہو۔“ تو میں نے یہ بات دہرائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اسے 'اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں' کہنے کے بعد قتل کیا تو تم اس کے کہنے سے پہلے کی اس کی حالت میں ہو جاؤ گے، اور وہ تمہیں قتل کرنے سے پہلے کی تمہاری حالت میں ہو گا۔“