❮
❯
حدیث نمبر: 17648
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: كُنْتُ فِي دَارِ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ بِالْبَصْرَةِ، فَحَدَّثَتْنِي ابْنَتُهُ أَنَّ أَبَاهَا لَمَّا ثَقُلَ بَلَغَ ذَلِكَ زِيَادًا، فَجَاءَ حَتَّى اسْتَأْذَنَ عَلَى الْبَابِ، وَجَلَسْتُ عِنْدَ أَبِي فَدَخَلَ زِيَادٌ فَعَرَفَ فِي وَجْهِ أَبِي الْمَوْتَ، فَقَالَ: يَا مَعْقِلُ، أَلَا تُزَوِّدُنَا مِنْكَ؟ فَقَدْ كَانَ اللهُ يَنْفَعُنَا بِأَشْيَاءَ نَسْمَعُهَا مِنْكَ، فَقَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ وَالِي أُمَّةٍ كَثُرَتْ أَوْ قَلَّتْ لَمْ يَعْدِلْ فِيهِمْ إِلَّا أَكَبَّهُ اللهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ» فَنَكَّسَ رَأْسَهُ سَاعَةً ثُمَّ أَطْرَقَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: يَا مَعْقِلُ، أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أُمْ مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ؟ فَقَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

اسماعیل اودی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں بصرہ میں سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا، تو ان کی بیٹی نے مجھے بتایا کہ جب ان کے والد کی حالت نازک ہو گئی تو یہ بات زیاد کو پہنچی، وہ آیا یہاں تک کہ دروازے پر اجازت طلب کی۔ (وہ کہتی ہیں:) میں اپنے والد کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ زیاد اندر داخل ہوا اور اس نے میرے والد کے چہرے پر موت کے آثار پہچان لیے، تو اس نے کہا: اے معقل! کیا تم ہمیں کچھ زادِ راہ نہیں دیتے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں سے فائدہ پہنچاتا رہا ہے جو ہم آپ سے سنتے ہیں۔ تو انہوں نے اس سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی بھی حکمران، چاہے اس کی رعیت زیادہ ہو یا کم، اگر ان کے درمیان انصاف نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اوندھے منہ جہنم میں گرا دے گا۔“ تو اس نے کچھ دیر کے لیے اپنا سر جھکا لیا، پھر خاموشی سے سر جھکائے رہا، پھر سر اٹھا کر کہا: اے معقل! کیا یہ وہ بات ہے جو تم نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، یا کسی اور واسطے سے؟ تو انہوں نے کہا: بلکہ میں نے یہ خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17648
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 221، حدیث 514