المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معاذ بن أنس الجهني باب: سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ زَوْجِي يَخْرُجُ فِي هَذِهِ السَّرِيَّةِ، وَإِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي بِصَلَاتِهِ، وَأَصُومُ بِصِيَامِهِ، وأَتَعَبَّدُ بِعِبَادَتِهِ فَدُلَّنِي عَلَى عَمِلٍ أُدْرِكُ بِهِ عَمَلَهُ، فَقَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعينَ أَنْ تَقُومِي فَلَا تَفْتُرِي، وَتَصُومِي فَلَا تُفْطِرِي، وَتَذْكُرِي فَلَا تَغْفَلي؟» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ يَسْتَطِيعُ ذَاكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ: «لَوْ طُوِّقْتِ ذَاكَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمْ يَبْلُغِ الْعُشْرَ مِنْ ذَلِكَ»سہل بن معاذ بن انس رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا، تو ایک عورت آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا شوہر اس لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے نکل رہا ہے، اور میں اس کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتی، اس کے روزے کے ساتھ روزہ رکھتی، اور اس کی عبادت کے ساتھ عبادت کرتی تھی، تو مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے میں اس کے عمل کو پا لوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ایسا کر سکتی ہو کہ کھڑی رہو اور سست نہ ہو، روزہ رکھو اور افطار نہ کرو، اور ذکر کرو اور غافل نہ ہو؟“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کوئی ایسا کر سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں اس کی طاقت بھی دے دی جائے - اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے - تب بھی تم اس کے دسویں حصے کو نہ پہنچ سکو گی۔“