حدیث نمبر: 17509
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْصِنِي، فَقَالَ: " اعْبُدِ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، وَاعْدُدْ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى، وَاذْكُرِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَعِنْدَ كُلِّ شَجَرٍ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةً: السِّرُّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلَانِيَةُ بِالْعَلَانِيَةِ "، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَمْلَكِ النَّاسِ مِنْ ذَلِكَ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَخَذَ بِطَرَفِ لِسَانِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ - كَأَنَّهُ يَتَهَاوَنُ بِهِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا هَذَا؟» وَأَخَذَ بِطَرَفِ لِسَانِهِ
ترجمہ

…اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرو، اور ہر پتھر اور ہر درخت کے پاس اللہ عزوجل کو یاد کرو، اور جب کوئی برائی کر بیٹھو تو اس کے ساتھ ہی کوئی نیکی کر لو: پوشیدہ (گناہ کا کفارہ) پوشیدہ (نیکی) سے، اور ظاہر (گناہ کا کفارہ) ظاہر (نیکی) سے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سب سے زیادہ اختیار رکھنے والی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ تو آپ ﷺ نے اپنی زبان کا کنارہ پکڑا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! - گویا وہ اسے معمولی سمجھ رہے تھے - تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا لوگوں کو ان کی ناکوں کے بل جہنم میں گرانے والی یہی (زبان) نہیں؟“ اور آپ ﷺ نے پھر اپنی زبان کا کنارہ پکڑا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17509
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 175، حدیث 374