المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
المراسيل، عن معاذ بن جبل باب: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرسل روایات
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْصِنِي، فَقَالَ: " اعْبُدِ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، وَاعْدُدْ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى، وَاذْكُرِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَعِنْدَ كُلِّ شَجَرٍ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةً: السِّرُّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلَانِيَةُ بِالْعَلَانِيَةِ "، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَمْلَكِ النَّاسِ مِنْ ذَلِكَ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَخَذَ بِطَرَفِ لِسَانِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ - كَأَنَّهُ يَتَهَاوَنُ بِهِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا هَذَا؟» وَأَخَذَ بِطَرَفِ لِسَانِهِابوسلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرو، اور ہر پتھر اور ہر درخت کے پاس اللہ عزوجل کو یاد کرو، اور جب کوئی برائی کر بیٹھو تو اس کے ساتھ ہی کوئی نیکی کر لو: پوشیدہ (گناہ کا کفارہ) پوشیدہ (نیکی) سے، اور ظاہر (گناہ کا کفارہ) ظاہر (نیکی) سے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سب سے زیادہ لوگوں پر قابو رکھنے والی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ تو آپ ﷺ نے اپنی زبان کا کنارہ پکڑا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! - گویا وہ اسے معمولی سمجھ رہے تھے - تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا لوگوں کو ان کی ناکوں کے بل جہنم میں گرانے والی یہی (زبان) نہیں؟“ اور آپ ﷺ نے پھر اپنی زبان کا کنارہ پکڑا۔