المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ميمون بن أبي شبيب، عن معاذ بن جبل باب: میمون بن ابی شبیب کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَالْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ، فَرَأَيْتُ خَلْوَةً فَاغْتَنَمْتُهَا، فَأَوْضَعْتُ بَعِيرِي نَحْوَهُ حَتَّى سَايَرْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: " لَقَدْ سَأَلْتَ عَظِيمًا، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ عَلَيْهِ: تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ "، ثُمَّ سَارَ وَسِرْتُ
قَالَ: " وَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِأَبْوَابٍ مِنَ الْخَيْرِ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُكَفِّرُ الْخَطَايَا، وَقِيَامُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ " ثُمَّ قَرَأَ: {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [السجدة: ١٦] ، قَالَ: ثُمَّ سَارَ وَسِرْتُ
وَقَالَ: " أَلَا أُنَبِّئُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ؟: الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ "، ثُمَّ سَارَ وَسِرْتُ
قَالَ: «إِنْ شِئْتَ أُنَبِّأتك بِمَا هُوَ أَمْلَكُ عَلَى النَّاسِ مِنْ ذَلكَ كُلِّهِ» قَالَ: فَكَانَتْ مِنْهُ سُكَيْتَةٌ، وَكَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَرَأَيْتُ رَاكِبًا فَحَسِبْتُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَيَشْغَلَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا هُوَ أَمْلَكُ عَلَى النَّاسِ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ؟ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى لِسَانِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنَّا لَنُؤَاخَذُ بِمَا نَتَكَلَّمُ؟ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ، وَمَا تَقُولُ إِلَّا لَكَ أَوْ عَلَيْكَ؟ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي نَارِ جَهَنَّمَ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟»سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا، تو میں نے ایک تنہائی کا موقع دیکھا اور اسے غنیمت جانا، چنانچہ میں نے اپنا اونٹ آپ ﷺ کی طرف تیز کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے برابر ہو گیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل سکھائیں جو مجھے جنت میں داخل کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بہت بڑی چیز کے بارے میں پوچھا ہے، اور یہ اس کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ اسے آسان کر دے: تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰۃ ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو“، پھر آپ ﷺ چلے اور میں بھی چلا
فرمایا: ”اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں خیر کے دروازے بھی بتاؤں: روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور رات کے پچھلے پہر آدمی کا کھڑا ہونا (نماز کے لیے)“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں﴾ [السجدہ: 16]، پھر آپ ﷺ چلے اور میں بھی چلا
اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس معاملے کا سر، اس کا ستون، اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں؟ اللہ کے راستے میں جہاد“، پھر آپ ﷺ چلے اور میں بھی چلا
فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ چیز بتاؤں جو ان سب سے زیادہ لوگوں پر قابو رکھنے والی ہے“، راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ کچھ دیر خاموش ہو گئے، اور میں نے ادھر ادھر دیکھا، تو مجھے ایک سوار نظر آیا، میں نے گمان کیا کہ وہ آپ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو مصروف کر دے گا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا چیز ہے جو ان سب پر سب سے زیادہ قابو رکھتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم سے ہر اس بات پر مؤاخذہ ہوگا جو ہم بولتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے، اے معاذ بن جبل! تم جو بھی کہتے ہو وہ تمہارے حق میں ہے یا تمہارے خلاف، کیا لوگوں کو جہنم کی آگ میں ان کے نتھنوں کے بل کوئی چیز گراتی ہے سوائے ان کی زبانوں کی کھیتیوں کے؟“