المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن معاذ باب: عبدالملک بن عمیر کی، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلَانِ، فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا حَتَّى جَعَلَ يَتَمَرَّغُ مِنَ الْغَضَبِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَأَذْهَبَتِ الَّذِي بِهِ مِنَ الْغَضَبِ» ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا هِيَ يَا نَبِيٌّ؟ وَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ الْغَضَبَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا هِيَ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ وَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ: أَلَهُ خَاصَّةً أُمْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» فَدَنَوْتُ مِنَ الرَّجُلِ فَقُلْتُهَا لَهُ فَلَمْ يَقُلْهَا، فَلَمْ يَزْدَدْ إِلَّا غَضَبًا…اور آپ ﷺ کے پاس دو آدمی موجود تھے، تو ان میں سے ایک کو اتنا غصہ آیا کہ وہ غصے سے لوٹنے لگا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ لے تو اس کا سارا غصہ ختم ہو جائے“، تو میں آپ ﷺ کے قریب ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! وہ کیا ہے، اے نبی؟ اور میں یہ بھی جاننا چاہتا تھا - راوی کہتے ہیں: میں آپ ﷺ کے قریب ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! وہ کیا ہے، اے اللہ کے نبی؟ اور میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا یہ خاص ہے یا عام مومنوں کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہم انی اعوذ بک من الشیطان الرجیم“ (اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں)، تو میں اس آدمی کے قریب ہوا اور اسے یہ کلمہ بتایا، لیکن اس نے یہ نہیں کہا، تو اس کا غصہ اور بڑھ گیا۔