المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن معاذ باب: عبدالملک بن عمیر کی، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَأَطَالَ قِيَامَهَا وَرُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّيْتَ صَلَاةً أَطَلْتَ قِيَامَهَا وَرُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا؟ قَالَ: «إِنَّهَا صَلَاةُ رَغِبٍ وَرَهَبٍ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِيَ اثْنَتَيْنِ، وَزَوَى عَنِّي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلَّطَ عَلَى أُمَّتِي عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَجْتَاحَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِي، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا»…رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز پڑھی اور اس کا قیام، رکوع اور سجدہ طویل کیا، تو جب نماز مکمل کی تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ایسی نماز پڑھی جس کا قیام، رکوع اور سجدہ آپ نے طویل کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رغبت اور رہبت (امید اور خوف) کی نماز تھی، اور میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک مجھ سے روک لی، میں نے اس سے یہ مانگا کہ وہ میری امت پر کسی ایسے دشمن کو غالب نہ کرے جو ان کے علاوہ ہو، اور وہ انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی، اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ انہیں قحط سے ہلاک نہ کرے، تو اس نے یہ بھی عطا کر دی، اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ ان کی آپس کی لڑائی نہ رکھے، تو اس نے یہ مجھ سے روک لی۔“