المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن معاذ باب: عبدالملک بن عمیر کی، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ، فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يُصِيبُهُ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ إِلَّا أَتَاهُ، إِلَّا إِنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا؟ فَقَالَ: «تَوَضَّأْ وُضُوءًا حَسَنًا، ثُمَّ قُمْ فَصَلِّ» فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود: ١١٤] ، فَقَالَ مُعَاذٌ: هِيَ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ خَاصَّةً، أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: «لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً»سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی نے کسی ایسی عورت کو چھو لیا جو اس کے لیے حلال نہیں تھی، اور اس نے وہ سب کچھ کیا جو ایک مرد اپنی بیوی سے کرتا ہے سوائے اس کے کہ اس نے اس سے مجامعت نہیں کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھی طرح وضو کرو، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو“، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اور دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، یہ نصیحت ماننے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے﴾ [ہود: 114]، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ اس کے لیے خاص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عام مسلمانوں کے لیے۔“