المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن معاذ باب: عمرو بن مرہ کی، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ سُبِقَ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ الَّذِي يَلِيهِ وَقَدْ سُبِقْتَ بِكَذَا وَكَذَا فَيَقْضِي، قَالَ: فَكُنَّا بَيْنَ رَاكِعٍ وَسَاجِدٍ وَقَائِمٍ وَقَاعِدٍ، فَجِئْتُ يَوْمًا وَقَدْ سُبِقْتُ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، وَأُشِيرَ إِلَيَّ بِالَّذِي سُبِقْتُ بِهِ، فَقُلْتُ: لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا، فَكُنْتُ بِحَالِهُمُ الَّذِي وَجَدْتُهُمْ عَلَيْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْتُ فَصَلَّيْتُ وَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَقَالَ: «مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا؟» قَالُوا: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَقَالَ: «قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ فَاقْتَدُوا بِهِ، إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ سُبِقَ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ فَلْيُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ صَلَاتَهُ، فَإِذَا فَرَغَ الْإِمَامُ فَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ بِهِ»سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نماز کے لیے آیا کرتے تھے، تو جب کوئی آدمی آتا اور اس کی کچھ نماز چھوٹ چکی ہوتی، تو اس کے ساتھ والا اسے اشارے سے بتا دیتا کہ تمہاری اتنی اتنی (رکعتیں) چھوٹ چکی ہیں، پھر وہ (بعد میں) پوری کر لیتا، (معاذ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: تو (ایک ہی وقت میں) ہم میں سے کوئی رکوع میں ہوتا، کوئی سجدے میں، کوئی کھڑا اور کوئی بیٹھا ہوتا، ایک دن میں آیا جبکہ میری کچھ نماز چھوٹ چکی تھی، اور مجھے اشارے سے بتایا گیا کہ کتنی چھوٹی ہے، تو میں نے کہا: میں (نبی کریم ﷺ کو) جس حال میں بھی پاتا ہوں اسی حال میں شامل ہو جاتا ہوں، تو میں اسی حال میں شامل ہو گیا جس حال میں، میں نے انہیں پایا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں کھڑا ہوا اور (باقی) نماز پڑھی، تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”ایسا ایسا کہنے والا کون تھا؟“ صحابہ نے کہا: معاذ بن جبل، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”معاذ نے تمہارے لیے یہ طریقہ مقرر کیا ہے، تم اس کی پیروی کرو، جب تم میں سے کوئی آئے اور اس کی کچھ نماز چھوٹ چکی ہو، تو وہ امام کے ساتھ اپنی (باقی) نماز پڑھے، پھر جب امام فارغ ہو جائے تو جو اس سے چھوٹ گیا اسے پورا کر لے۔“