المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة علي بن أبي طالب رضي الله عنه " شهد بدرا ابن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك يكنى أبا الحسن " — وما أسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا نسب، آپ بدری صحابی ہیں: ابن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک، کنیت ابوالحسن — سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 174
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ابْنِنِي؟ قَالَ: «عِنْدَكَ شَيْءٌ تُعْطِيهَا؟» فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: «أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟» قُلْتُ: عِنْدِي، قَالَ: «اعْطِهَا إِيَّاهَا»ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے فاطمہ سے نکاح کیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے (رخصتی کی اجازت دیں اور) میرا نکاح مکمل کروا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو تم اسے دے سکو؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری حطمیہ زرہ کہاں ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرے پاس ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اسے دے دو۔“