حدیث نمبر: 17385
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَدِّقُ أَهْلَ الْيَمَنِ، «وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنَ السِّتِّينَ تَبِيعَيْنِ، وَمِنَ السَّبْعِينَ مُسِنَّةً وَتَبِيعًا، وَمِنَ الثَّمَانِينَ مُسِنَّتَيْنِ، وَمِنَ التِّسْعِينَ ثَلَاثَةَ أَتَابِيعَ، وَمِنَ الْماِئَةِ مُسِنَّةً وَتَبِيعَيْنِ، وَمِنَ الْعِشْرِينَ وَالْماِئَةِ ثَلَاثَ مُسِنَّاتٍ أَوْ أَرْبَعَ أَتَابِيعَ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا آخُذَ دُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَبْلُغَ مُسِنَّةً وَجَذَعَةً» ، وَقَالَ: «إِنَّ الْأَوْقَاصَ لَا فَرِيضَةَ فِيهَا» وَالْأَوْقَاصُ: الصِّغَارُ
ترجمہ

…ابن لہیعہ کے واسطے سے، وہ یزید بن ابی حبیب سے، وہ سلمہ بن اسامہ سے، وہ علی بن حکم سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن والوں سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، ”اور مجھے حکم دیا کہ میں گائے سے، ہر تیس میں ایک بچھڑا/بچھیا (ایک سالہ)، اور ہر چالیس میں ایک مسنہ (دو سالہ)، اور ساٹھ میں دو بچھڑے، اور ستر میں ایک مسنہ اور ایک بچھڑا، اور اسی میں دو مسنہ، اور نوے میں تین بچھڑے، اور سو میں ایک مسنہ اور دو بچھڑے، اور ایک سو بیس میں تین مسنہ یا چار بچھڑے لوں، اور مجھے حکم دیا کہ اس سے کم میں کچھ نہ لوں یہاں تک کہ (تعداد) ایک مسنہ اور ایک جذعہ تک پہنچے“، اور فرمایا: ”اوقاص (تھوڑی تعداد) میں کوئی فریضہ نہیں“، اور اوقاص چھوٹی (تعداد کی گائیں) کو کہتے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17385
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 124، حدیث 249