حدیث نمبر: 17378
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ يُوصِيهِ، وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «يَا مُعَاذُ، إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي، وَلَعَلَّكَ أَنَّ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي وَقَبْرِي» ، فَبَكَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ جَزَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْكِ يَا مُعَاذُ، فَإِنَّ الْبُكَاءَ مِنَ الشَّيْطَانِ»
ترجمہ

…عاصم بن حمید کے واسطے سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو ان کے ساتھ نکلے اور انہیں وصیت کرتے رہے، معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے، اور رسول اللہ ﷺ ان کی سواری کے نیچے پیدل چل رہے تھے، پھر جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے معاذ! ہو سکتا ہے کہ تم اس سال کے بعد مجھ سے نہ مل سکو، اور شاید تم میری مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو“، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے جدائی کے غم میں رو پڑے، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”مت رو، اے معاذ! کیونکہ رونا شیطان کی طرف سے ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17378
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 121، حدیث 242