حدیث نمبر: 17377
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَعَهُ يُوصِيهِ، ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «إِنَّ أَهْلَ بَيْتِي هَؤُلَاءِ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ أَوْلَى النَّاسِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّ أَوْلِيَائِيَ مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ، مَنْ كَانُوا أَوْ حَيْثُ كَانُوا، اللهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ فَسَادَ مَا أَصْلَحْتَ، وَأَيْمُ اللهِ لَتُكْفَأُ أُمَّتِي عَلَى دِينِهَا كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ فِي الْبَطْحَاءِ»
ترجمہ

…عاصم بن حمید سکونی کے واسطے سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ نکلے اور انہیں وصیت کرتے رہے، پھر رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی طرف مڑ کر دیکھا اور فرمایا: ”میرے یہ اہل بیت سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ حق دار ہیں، حالانکہ ایسا نہیں، میرے دوست تم میں سے صرف متقی لوگ ہیں، وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں، اے اللہ! میں انہیں اس چیز کے بگاڑنے کی اجازت نہیں دیتا جسے تو نے سنوار دیا، اور اللہ کی قسم! میری امت اپنے دین پر ایسے الٹ دی جائے گی جیسے کھلے میدان میں کوئی برتن الٹ دیا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17377
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 120، حدیث 241