المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن عميرة، عن معاذ بن جبل باب: یزید بن عمیرہ کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: " تَكُونُ فِتَنٌ يَكْثُرُ فِيهَا الْمَالُ، وَيُفْتَحُ فِيهَا الْقُرْآنُ حَتَّى يَقْرَأَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ وَالْمُؤْمَنُ وَالْمُنَافِقُ، فَيَقْرَأُهُ وَلَا يُتَّبَعُ، فَيَقُولُ: وَاللهِ لَأَقْرَأَنَّهُ عَلَانِيَةً، وَلَا يُتَّبَعُ، فَيَقْصِدُ مَسْجِدًا فَيَبْتَدِعُ كَلَامًا لَيْسَ مِنْ كِتَابِ اللهِ، وَلَا مِنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهَا، فَإِنَّهَا بِدْعَةٌ ضَلَالَةٌ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُ فَإِنَّهَا بِدْعَةٌ ضَلَالَةٌ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُ فَإِنَّهَا بِدْعَةٌ ضَلَالَةٌ "…ابوخلیفہ، اور احمد بن داؤد مکی کے واسطے سے، دونوں کہتے ہیں: ہمیں احمد بن یحییٰ بن حمید طویل نے بیان کیا، وہ حماد بن سلمہ سے، وہ ایوب سے، وہ ابوقلابہ سے، وہ یزید بن عمیرہ سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: ”ایسے فتنے آئیں گے جن میں مال بڑھ جائے گا، اور ان میں قرآن (سب کے لیے) کھول دیا جائے گا، یہاں تک کہ مرد، عورت، چھوٹا، بڑا، مومن اور منافق سب اسے پڑھیں گے، تو وہ (کوئی شخص) اسے پڑھے گا لیکن اس کی پیروی نہیں کی جائے گی، تو وہ کہے گا: اللہ کی قسم! میں اسے ضرور کھلے عام پڑھوں گا، پھر بھی اس کی پیروی نہیں کی جائے گی، تو وہ کسی مسجد کا رخ کرے گا اور ایسی بات ایجاد کرے گا جو نہ اللہ کی کتاب میں ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت میں، پس اس سے اور اس (بات) سے بچو، کیونکہ یہ گمراہی کی بدعت ہے، تم اس سے اور اس (شخص) سے بچو کیونکہ یہ گمراہی کی بدعت ہے، تم اس سے اور اس (شخص) سے بچو کیونکہ یہ گمراہی کی بدعت ہے۔“