❮
❯
حدیث نمبر: 17364
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَرْمِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ الْهَمَذَانِيِّ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي وَصِيَّتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، جَعَلَ يُصْغِي إِلَيْهِ أَحْيَانًا، ثُمَّ يُفِيقُ حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ غشية رَهَبْنَا أَنْ يَكُونَ قُبِضَ، قَالَ: فَأَفَاقَ وَأَنَا مُقَابِلَهُ أَبْكِي، قَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قُلْتُ: وَاللهِ مَا أَبْكِي عَلَى دُنْيَا أَنَالُهَا مِنْكَ، وَلَا نَسَبٍ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَى مَا كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْكَ تذْهَبُ الْآنَ، قَالَ: لَا تَبْكِ، إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ شَأْنُهُمَا: مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا، ابْتَغُوا الْعِلْمَ حَيْثُ ابْتَغَاهُ إِبْرَاهِيمُ، فَإِنَّهُ سَأَلَ اللهَ وَلَمْ يَكُنْ نَسِيًّا، وابْتَغُوهُ بَعْدِي عِنْدَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهُ عِنْدَهُمْ فَشَامُّوا النَّاسَ، اطْلُبُوا الْعِلْمَ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَسَلْمَانَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، وَإِيَّاكَ وَزَيْغَةَ الْحَكِيمِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُلْقِي الْحِكْمَةَ الضَّالَّةَ عَلَى لِسَانِ الرَّجُلِ الْحَكِيمِ، فَخُذِ الْعِلْمَ إِذَا جَاءَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: كَيْفَ بِي أَنْ أَعْلَمَ زَيْغَةَ الْحَكِيمِ، وَحُكْمَ الْمُنَافِقِ؟ فَقَالَ إِنَّ الْحَقَّ نُورٌ، وَإِيَّاكَ وَتَقْضِيبَ الْأُمُورِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَوْمًا: إِنَّ أَبْنَاءَنَا خَيْرٌ مِنَّا، وُلِدُوا عَلَى الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا، وَقَدْ كُنَّا أَشْرَكْنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «نَحْنُ خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِنَا، وَبَنُونَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ، وَأَبْنَاءُ بَنِينَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَاءِ أَبْنَائِهِمْ»
ترجمہ

یزید بن عمیرہ ہمذانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنی اس وصیت کے دوران، جس میں ان کا انتقال ہوا، مجھے (یہ باتیں) بیان کیں۔ وہ کبھی میری طرف متوجہ ہو کر کان لگاتے، پھر ہوش میں آ جاتے، یہاں تک کہ ان پر ایسی بے ہوشی طاری ہوئی کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ کہیں ان کی روح قبض نہ ہو گئی ہو۔ (یزید بن عمیرہ) کہتے ہیں: پھر وہ ہوش میں آئے جبکہ میں ان کے سامنے رو رہا تھا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! مجھے نہ تو کسی دنیاوی چیز کا رونا ہے جو مجھے آپ سے ملنی تھی، اور نہ میرے اور آپ کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے، بلکہ مجھے اس بات کا رونا ہے کہ جو علم میں آپ سے سنا کرتا تھا، وہ اب رخصت ہوا جا رہا ہے۔ انہوں نے فرمایا: مت رو، علم اور ایمان کا معاملہ یہ ہے کہ جو انہیں تلاش کرے وہ انہیں پا لیتا ہے۔ علم کو وہاں تلاش کرو جہاں ابراہیم علیہ السلام نے اسے تلاش کیا تھا، کیونکہ انہوں نے اللہ سے (علم کا) سوال کیا تھا اور وہ بھولنے والے نہ تھے۔ اور میرے بعد اسے چار افراد کے پاس تلاش کرو، اگر ان کے پاس نہ پاؤ تو لوگوں میں تلاش کرتے پھرو: علم کو عبداللہ بن مسعود، ابودرداء، سلمان (فارسی) اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم کے پاس تلاش کرو۔ اور حکیم کی لغزش سے بچو، کیونکہ شیطان گمراہ کن حکمت (کی بات) حکیم آدمی کی زبان پر ڈال دیتا ہے، پس جب علم تمہارے پاس آئے تو اسے لے لو۔ (یزید بن عمیرہ) کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: میں حکیم کی لغزش اور منافق کے (کلامِ) حکمت کو کیسے پہچانوں؟ تو انہوں نے فرمایا: حق تو روشن ہے، اور معاملات میں جلد بازی سے بچو۔ اور (سنو) رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے ایک دن کہا: ہمارے بیٹے ہم سے بہتر ہیں، وہ اسلام پر پیدا ہوئے اور انہوں نے شرک نہیں کیا، جبکہ ہم نے شرک کیا تھا، تو یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم اپنے بیٹوں سے بہتر ہیں، اور ہمارے بیٹے ان کے بیٹوں سے بہتر ہیں، اور ہمارے بیٹوں کے بیٹے ان کے بیٹوں کے بیٹوں سے بہتر ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17364
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 115، حدیث 228