المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبادة بن نسي، عن عبد الرحمن بن غنم، عن معاذ باب: عبادہ بن نسی کی، عبدالرحمٰن بن غنم کے واسطے سے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، أبنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نَسِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ: أَتَسَوَّكُ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَيَّ النَّهَارِ أَتَسَوَّكُ؟ قَالَ: أَيَّ النَّهَارِ شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ غُدْوَةً، وَإِنْ شِئْتَ عَشِيَّةً، قُلْتُ: فَإِنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَهُ عَشِيَّةً، قَالَ: وَلِمَ؟ قُلْتُ: يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مَنْ رِيحِ الْمِسْكِ» فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، لَقَدْ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّوَاكِ حِينَ أَمَرَهُمْ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ بِفَمِ الصَّائِمِ خُلُوفٌ - وَإِنِ اسْتَاكَ - وَمَا كَانَ بِالَّذِي يَأْمُرَهُمْ أَنْ يُنْتِنُوا أَفْوَاهَهُمْ عَمْدًا، مَا فِي ذَلِكَ مَنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ، بَلْ فِيهِ شَرٌّ، إِلَّا مَنِ ابْتُلِيَ بِبَلَاءٍ لَا يَجِدُ مَنهُ بُدًا قُلْتُ: وَالْغُبَارُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَيْضًا كَذَلِكَ؟ إِنَّمَا يُؤْجَرُ فِيهِ مَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهِ وَلَمْ يَجِدْ عَنْهُ مَحِيصًا؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَأَمَّا مَنْ أَلْقَى نَفْسَهُ فِي الْبَلَاءِ عَمْدًا فَمَا لَهُ مَنْ ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ»…چاہے صبح کو کرو، چاہے شام کو، میں نے کہا: لوگ اسے شام کے وقت ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے“، تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ! رسول اللہ ﷺ نے انہیں مسواک کا حکم دیا جب دیا تو آپ ﷺ کو یہ علم تھا کہ روزہ دار کے منہ میں خلوف (بو کی تبدیلی) لازمی طور پر ہوگی - چاہے وہ مسواک کرے - اور آپ ﷺ ایسے نہیں تھے کہ انہیں جان بوجھ کر اپنے منہ بدبودار رکھنے کا حکم دیتے، اس میں کوئی خیر نہیں بلکہ شر ہے، سوائے اس کے جو کسی ایسی آزمائش میں مبتلا ہو جس سے چارہ نہ ہو، میں نے کہا: اور اسی طرح اللہ کے راستے میں گرد (بھی)؟ اس پر اجر صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کے لیے مجبور ہو اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں، اور جو جان بوجھ کر خود کو مشقت میں ڈالے، اس کے لیے اس میں کوئی اجر نہیں۔“