حدیث نمبر: 17256
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، - قَالَ يَزِيدُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ - عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي رَجُلٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُحْمَدَ - كَأَنَّهُ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يَمْنَعُكُ أَنْ تُحِبَّ أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وَتَمُوتَ فَقِيدًا؟ وَإِنَّمَا بُعِثْتُ عَلَى تَمَامِ مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ»
ترجمہ

…رسول اللہ ﷺ کے پاس (ایک آدمی آیا) اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایسا آدمی ہوں جو خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں، اور پسند کرتا ہوں کہ میری تعریف کی جائے - گویا وہ اپنے متعلق (کسی برائی سے) ڈر رہا تھا - تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں کیا چیز روکتی ہے کہ تم یہ پسند کرو کہ محمود (لائقِ تعریف) بن کر زندہ رہو اور مفقود (یاد کیا جانے والا) بن کر مرو؟ مجھے تو صرف اخلاق کی خوبیوں کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17256
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 65، حدیث 120