المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن معاذ باب: شہر بن حوشب کی، عبدالرحمٰن بن غنم کے واسطے سے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْلَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ صَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الصُّبْحِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ حَدَّثَنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، وَلَا أَسْأَلُكُ عَنْ شَيْءٍ غَيْرِهِ، قَالَ: «بَخٍ بَخٍ، لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللهُ بِهِ الْخَيْرَ» ، ثُمَّ قَالَ: «تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخَرِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتَعْبُدُ اللهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ»
ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ يَا مُعَاذُ بِرَأْسِ هَذَا الْأَمْرِ وَقِوَامِهِ، وَذُرْوَةِ السَّنَامِ مَنهُ؟ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا شَحَبَ وَجْهٌ، وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِي عَمَلٍ يُبْتَغَى فِيهِ دَرَجَاتُ الْجَنَّةِ، بَعْدَ صَلَاةٍ مَفْرُوضَةٍ، كَجِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»…جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز فجر پڑھائی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے، اور اس کے علاوہ میں آپ سے کچھ نہیں پوچھوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بخ بخ (شاباش، شاباش)، تم نے بہت بڑی چیز کے بارے میں پوچھا ہے، اور یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ خیر کا ارادہ کرے“، پھر فرمایا: ”تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاؤ، نماز قائم کرو، اور اللہ ہی کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، یہاں تک کہ تم اسی حال پر مر جاؤ۔“
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں، اے معاذ! اس معاملے کا سر، اس کا ستون اور اس کی کوہان کی چوٹی بتا دوں؟ وہ اللہ کے راستے میں جہاد ہے، مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، جس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اور نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے اپنے مال اور خون مجھ سے محفوظ کر لیے سوائے ان کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔“
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کسی چہرے کا رنگ زرد نہیں پڑا، اور نہ کسی قدم پر گرد جمی، کسی ایسے عمل میں جس سے جنت کے درجات طلب کیے جائیں، فرض نماز کے بعد، جو اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کی مانند ہو۔“