المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أنس بن مالك، عن معاذ بن جبل باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبَ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنْتَ رِدْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ، فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقًّا عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّهُمْ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»…وہ بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نادر احادیث میں سے کوئی حدیث سنائیں۔ انہوں نے کہا: میں ایک گدھے پر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ!“ میں نے عرض کیا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔“ پھر فرمایا: ”اور کیا تم جانتے ہو کہ جب وہ ایسا کر لیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ ایسا کر لیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔“