حدیث نمبر: 17211
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْبَابِ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: «يَا مُعَاذُ» قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ» فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا أُخْبِرُ النَّاسَ؟ قَالَ: «دَعْهُمْ فَلْيَتَنَافَسُوا فِي الْأَعْمَالِ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا»
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے جبکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ دروازے پر موجود تھے، تو جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو خبر نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں رہنے دو تاکہ وہ نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17211
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 46، حدیث 75