المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن سمرة، عن معاذ بن جبل باب: سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِصَّانَ بْنِ كَاهِلٍ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَةِ فَجَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَهِيَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ يَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى قَلْبٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهُ» ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ؟ فَكَأَنَّ الْقَوْمَ عَنَّفُوهُ، فَقَالَ: لَا تُعَنِّفُوهُ، وَلَا تُؤَنِّبُوهُ وَدَعُوهُ، أَنَا سَمِعْتُ ذَلِكَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْقَوْمِ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ،…وہ بیان کرتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا تو ایک سفید سر و داڑھی والے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، انہوں نے کہا: مجھ سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو نفس بھی اس حال میں مرے کہ وہ اس بات کی گواہی دے رہا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ گواہی مومن دل سے ہو، تو اللہ اسے بخش دے گا۔“ میں نے پوچھا: کیا آپ نے یہ خود معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ تو گویا لوگوں نے انہیں سختی سے ٹوکا، انہوں (بزرگ) نے کہا: انہیں مت ٹوکو، اور نہ ملامت کرو، اور انہیں چھوڑ دو، میں نے یہ (حدیث) خود معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، وہ اسے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے لوگوں سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔