حدیث نمبر: 17192
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَبَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ بُكَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ فَقَالَ: " أَنَا مُحَمَّدٌ أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلَامِ وَخَوَاتِمَهُ، فَأَطِيعُونِي مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، وَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللهِ: أَحِلُّوا حَلَالَهُ وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، أَتَتْكُمُ الْمُوتَةُ، أَتَتْكُمْ بِالرَّوْحِ وَالرَّاحَةِ، كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ، أَتَتْكُمْ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، كُلَّمَا ذَهَبَ رُسُلٌ جَاءَ رُسُلٌ، تَنَاسَخَتِ النُّبُوَّةُ فَصَارَتْ مُلْكًا، رَحِمَ اللهُ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَخَرَجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلَهَا، أَمْسِكْ يَا مُعَاذُ وَأَحْصِ " قَالَ: فَلَمَّا بَلَغْتُ خَمْسَةً قَالَ: «يَزِيدُ، لَا يُبَارَكُ اللهُ فِي يَزِيدَ» ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ: «نُعِيَ إِلَيَّ حُسَيْنٌ، وَأُتِيتُ بِتُرْبَتِهِ، وَأُخْبِرَتْ بِقَاتِلِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُقْتَلُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ قَوْمٍ لَا يَمْنَعُوهُ إِلَّا خَالَفَ اللهُ بَيْنَ صُدُورِهِمْ وَقُلُوبِهِمْ، وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ، وَأَلْبَسَهُمْ شِيَعًا» ، ثُمَّ قَالَ: «وَاهًا لِفِرَاخِ آلِ مُحَمَّدٍ مِنْ خَلِيفَةٍ مُسْتَخْلَفٍ مُتْرَفٍ يَقْتُلُ خَلَفِي وَخَلَفَ الْخَلَفِ، أَمْسَكْ يَا مُعَاذُ» فَلَمَّا بَلَغْتُ عَشَرَةً قَالَ: «الْوَلِيدُ، اسْمُ فِرْعَوْنَ، هَادِمُ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ، بَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، لَيَسُلَّ اللهُ سَيْفَهُ وَلَا غِمَادَ لَهُ، وَاخْتَلَفَ النَّاسُ فَكَانُوا هَكَذَا» - وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ - ثُمَّ قَالَ: «بَعْدَ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ مَوْتٌ سَرِيعٌ، وَقَتْلٌ ذَرِيعٌ فَفِيهِ هَلَاكُهُمْ، وَيَلِي عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ الْعَبَّاسِ» وَلَفْظُهُمَا وَاحِدٌ
ترجمہ

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … جب بھی ایک رسول جاتا تو دوسرا رسول آتا، پھر نبوت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ بادشاہت بن گئی، اللہ اس پر رحم کرے جو اسے حق کے ساتھ لے اور اسی طرح نکلے جیسے داخل ہوا تھا، اے معاذ! رک جاؤ اور گنتے جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: جب میں پانچ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یزید، اللہ یزید میں برکت نہ ڈالے۔“ پھر آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حسین کی وفات کی خبر دی گئی، اور مجھے اس کی قبر کی مٹی لائی گئی، اور مجھے اس کے قاتل کے بارے میں بتایا گیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ ایسی قوم کے درمیان قتل نہیں کیا جائے گا جو اسے نہ روکے مگر اللہ ان کے سینوں اور دلوں کے درمیان اختلاف ڈال دے گا، اور ان پر ان کے بدترین لوگوں کو مسلط کر دے گا، اور انہیں گروہوں میں بانٹ دے گا۔“ پھر فرمایا: ”افسوس ہے آلِ محمد کے چوزوں پر ایک ایسے خلیفہ کی طرف سے جو بعد میں خلیفہ بنایا جائے گا، عیش پسند، جو میرے بعد آنے والوں کو اور ان کے بعد آنے والوں کو قتل کرے گا۔ اے معاذ! رک جاؤ۔“ جب میں دس تک پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولید، فرعون کا نام، اسلام کی شریعتوں کو منہدم کرنے والا، اس کے سامنے اس کے اہلِ بیت میں سے ایک شخص ہو گا، اللہ اپنی تلوار کھینچے گا اور اسے کوئی میان نہیں ہو گا، اور لوگ اختلاف کریں گے تو اس طرح ہو جائیں گے“ - اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر دیں - پھر فرمایا: ”ایک سو بیس سال کے بعد تیز موت اور کثرت سے قتل ہو گا، تو اسی میں ان کی ہلاکت ہے، اور ان پر بنو عباس کی اولاد میں سے ایک شخص حکومت کرے گا۔“
اور دونوں راویوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17192
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 38، حدیث 56