المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن عمرو بن العاص، عن معاذ باب: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ مَرَّ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى بَابِهِ، وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، تُحَدِّثُ نَفْسَكَ؟ فَقَالَ: مَا لِي؟ يُرِيدُ عَدُوُّ اللهِ أَنْ يَلْفِتَنِي عَمَّا سَمِعْتُ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي: تُكَابِدُ الْآنَ دَهْرَكَ فِي بَيْتِكَ لَا تَخْرُجُ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللهِ، وَمَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ وَلَمْ يَغْتَبْ أَحَدًا بِسُوءٍ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللهِ» ، فَيُرِيدُ عَدُوُّ اللهِ أَنْ يُخْرِجَنِي مِنْ بَيْتِي إِلَى الْمَجْلِسِسیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے دروازے پر کھڑے تھے اور ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، گویا اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہوں۔ عبداللہ نے ان سے پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! آپ کو کیا ہوا ہے، اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے؟ اللہ کا دشمن (شیطان) چاہتا ہے کہ مجھے اس سے پھیر دے جو میں نے محمد رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ وہ مجھ سے کہتا ہے: تم اب اپنے زمانے کو اپنے گھر میں مشقت سے گزار رہے ہو، مجلس میں نہیں نکلتے! (میں نے اس سے کہا) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے وہ اللہ عزوجل کے ذمے کی ضمانت میں ہے، اور جو کسی بیمار کی عیادت کرے وہ اللہ عزوجل کے ذمے ہے، اور جو صبح یا شام مسجد جائے وہ اللہ کے ذمے ہے، اور جو اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور کسی کی برائی سے غیبت نہ کرے وہ اللہ کے ذمے ہے۔“ تو اللہ کا دشمن چاہتا ہے کہ مجھے میرے گھر سے نکال کر مجلس میں لے جائے۔