حدیث نمبر: 17189
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَا: ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا أَبُو قَحْذَمٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَرَّ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «إِنَّ أَدْنَى الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَأَحَبُّ الْعَبِيدِ إِلَى اللهِ الْأَتْقِيَاءُ الْأَخْفِيَاءُ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا، وَإِذَا شَهِدُوا لَمْ يُعْرَفُوا، أُولَئِكَ أَئِمَّةُ الْهُدَى وَمَصَابِيحُ الْعِلْمِ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک قبر کے پاس سے گزرے جبکہ وہ رو رہے تھے، تو ان سے پوچھا گیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک حدیث جو میں نے اس قبر والے سے سنی - یعنی نبی کریم ﷺ سے - آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تھوڑا سا ریا بھی شرک ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب بندے وہ متقی اور گمنام لوگ ہیں جو غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جائے، اور حاضر ہوں تو پہچانے نہ جائیں، یہی لوگ ہدایت کے امام اور علم کے چراغ ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17189
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 36، حدیث 53