حدیث نمبر: 17182
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، أَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ مَالِكِ الدَّارِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَخَذَ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ فَجَعَلَهَا فِي صُرَّةٍ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: «اذْهَبْ بِهِمْ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، ثُمَّ تَلَّهُ سَاعَةً فِي الْبَيْتِ سَاعَةً حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ، فَذَهَبَ بِهَا الْغُلَامُ إِلَيْهِ» فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَتِكَ، فَقَالَ: وَصَلَهُ اللهُ وَرَحِمَهُ، ثُمَّ قَالَ: تَعَالِي يَا جَارِيَةُ، اذْهَبِي بِهَذِهِ السَّبْعَةِ إِلَى فُلَانٍ، وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ، حَتَّى أَنْفَذَهَا، فَرَجَعَ الْغُلَامُ، وَأَخْبَرَهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أَعَدَّ مِثْلَهَا إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَقَالَ: «اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَتَلَّهُ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ» ، فَذَهَبَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: اجْعَلْ هَذَا فِي بَعْضِ حَاجَتِكَ، فَقَالَ: رَحِمَهُ اللهُ وَوَصَلَهُ، تَعَالِي يَا جَارِيَةُ، اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا، وَاذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا، فَاطَّلَعَتِ امْرَأَةُ مُعَاذٍ فَقَالَتْ: نَحْنُ وَاللهِ مَسَاكِينُ، فَأَعْطِنَا، وَلَمْ يَبْقَ فِي الْخِرْقَةِ إِلَّا دِينَارَانِ، فَدَحَا بِهِمَا إِلَيْهَا، وَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ وَسُرَّ بِذَلِكَ، وَقَالَ: «إِنَّهُمْ إِخْوَةٌ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ»
ترجمہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار لے کر ایک تھیلی میں رکھے، پھر غلام سے کہا: ”یہ لے جا کر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو دے دو، پھر گھر میں کچھ دیر ٹھہرو تاکہ دیکھو وہ کیا کرتے ہیں۔“ چنانچہ غلام وہ لے کر ان کے پاس گیا، اس نے کہا: امیر المؤمنین فرماتے ہیں کہ اسے اپنی کسی ضرورت میں استعمال کریں۔ انہوں نے کہا: اللہ انہیں نوازے اور ان پر رحم کرے۔ پھر کہا: آؤ اے باندی! یہ سات دینار فلاں کے پاس لے جاؤ، اور یہ پانچ فلاں کے پاس، یہاں تک کہ وہ سب خرچ کر دیے۔ غلام واپس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے پایا کہ انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لیے بھی اتنی ہی رقم تیار کر رکھی تھی، تو کہا: ”یہ لے جا کر معاذ بن جبل کو دو اور گھر میں ٹھہرو تاکہ دیکھو وہ کیا کرتے ہیں۔“ چنانچہ وہ لے کر ان کے پاس گیا، اس نے کہا: امیر المؤمنین فرماتے ہیں کہ اسے اپنی کسی ضرورت میں استعمال کریں۔ انہوں نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے اور انہیں نوازے۔ آؤ اے باندی! فلاں کے گھر اتنے دینار لے جاؤ، اور فلاں کے گھر اتنے لے جاؤ۔ اتنے میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی جھانکنے لگیں اور کہا: اللہ کی قسم ہم بھی مسکین ہیں، ہمیں بھی دیجیے، اور تھیلی میں صرف دو دینار باقی رہ گئے تھے، تو انہوں نے وہ بھی انہیں دے دیے۔ غلام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، تو وہ اس پر خوش ہوئے اور فرمایا: ”یہ لوگ ایک دوسرے کے سگے بھائیوں جیسے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17182
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 33، حدیث 46