حدیث نمبر: 17183
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا، وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ، فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَائِهِ لَهُ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: «إِنِّي لَمْ أَنَسَ» ، ثُمَّ قَالَ: «تَدْرُونَ مَا الْأُمَّةُ؟» فَقَالُوا: لَا، قَالَ: «الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ» قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْقَانِتُ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: «الْمُطِيعُ لِلَّهِ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک امت (اپنی ذات میں مجسم خیر)، اللہ کے فرمانبردار اور یکسو تھے، اور مشرکین میں سے نہ تھے۔ ان کے ہم نشینوں میں سے کسی نے کہا: یہ الفاظ تو ابراہیم علیہ السلام کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں بھولا نہیں ہوں۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو ”امت“ کا مطلب کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: جو لوگوں کو بھلائی سکھائے۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو ”قانت“ کا مطلب کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: اللہ کا فرمانبردار۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17183
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 34، حدیث 47