حدیث نمبر: 17123
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ ذِرَاعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَلْيُؤْذِنُونِي» ، فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ فَآذَنَّاهُ، فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، قَالَ: فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مَقْصَرٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ، أَوْ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ، وَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا، وَقُلْنَا: خَصَّنَا اللهُ بِهِ أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَإِنْ فَعَلَ وَفَعَلَ، وَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ، فَأَقْبَلَ مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ مَا شَاءَ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا» ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَكَلَّمَنَا وَأَمَرَنَا وَعَلَّمَنَا
ترجمہ

سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی مسجدوں میں جمع ہو جایا کرو، پھر جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع دو۔“ ہم سب سے پہلے جمع ہو گئے اور آپ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو اطلاع دی، تو آپ ﷺ ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے یہاں تک کہ ہمارے درمیان بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم میں سے ایک بولنے والے نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس سے آگے تعریف کی کوئی حد نہیں اور جس کے پیچھے کوئی راستہ نہیں، یا اسی طرح کے الفاظ کہے۔ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ ناراض ہو گئے اور کھڑے ہو گئے۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کرنا شروع کر دیا اور کہا: اللہ نے ہمیں یہ اعزاز بخشا کہ آپ ﷺ سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے اور یہ اور وہ ہوا۔ چنانچہ ہم آپ ﷺ کے پاس آئے تو ہم نے آپ ﷺ کو فلاں قبیلے کی مسجد میں پایا، ہم نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ ہمارے ساتھ تشریف لائے یہاں تک کہ اسی جگہ یا اس کے قریب بیٹھ گئے جہاں پہلے بیٹھے تھے، پھر فرمایا: ”بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو وہ چاہے اپنے آگے رکھے اور جو چاہے اپنے پیچھے رکھے، اور بلاغت میں سے کچھ جادو کی مانند اثر رکھنے والا بھی ہوتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے، ہم سے گفتگو کی، ہمیں حکم دیا اور ہمیں تعلیم دی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17123
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 442، حدیث 1074