المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند معن بن يزيد السلمي باب: سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 17118
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا وَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى النَّهْشَلِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ " دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: «لَقَدْ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ وَلَقَدْ أَعْرَضْتَ، تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَأْتِيَهُ النَّاسُ إِلَيْكَ فَاكْرَهَهُ لَهُمْ»ترجمہ
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … ایک بدوی آیا اور نبی کریم ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی، اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سوال میں اختصار کیا ہے اور پھر بھی وسیع بات پوچھ لی ہے: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، پانچوں نمازیں پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، اور جو بات تمہیں ناپسند ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہ ان کے ساتھ کرنا بھی ناپسند رکھو۔“