المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو قزعة سويد بن حجير، عن حكيم بن معاوية باب: ابوقزعہ، سوید بن حجیر، کی حکیم بن معاویہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ، يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟، قَالَ: «تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْهُ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ»
وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ: «هَهُنَا تُحْشَرُونَ رُكْبَانًا وَمُشَاةً عَلَى وُجُوهِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، عَلَى أَفْوَاهِكُمُ الْفِدَامُ، وَتُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ، وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ»سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب خود پہنو تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور صرف گھر ہی میں اس سے الگ رہو۔“
اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”تم یہاں سوار اور پیدل حالت میں اپنے چہروں کے بل قیامت کے دن جمع کیے جاؤ گے، اس حال میں کہ تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، اور تم ستر امتوں کی تعداد پوری کرتے ہو، تم ان سب میں سب سے آخری اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز ہو، اور تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے جو چیز گواہی دے گی وہ اس کی ران ہو گی۔“