حدیث نمبر: 16987
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَارِيَةٌ لِي كَانَتْ تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ فِي قِبَلِ أُحُدٍ، إِذْ اطَلَعْتُ عَلَيْهَا اطِّلَاعَةً فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْهَا، فَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟، قَالَ: «ائْتِنِي بِهَا» ، فَجِئْتُ بِهَا فَقَالَ: «أَيْنَ اللهُ؟» ، قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» ، قَالَتْ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ»
ترجمہ

سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … میں بھی بنی آدم میں سے ہوں، مجھے بھی ویسے ہی غصہ آتا ہے جیسے دوسروں کو آتا ہے، چنانچہ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا، رسول اللہ ﷺ کو یہ بات بہت گراں گزری۔ میں نے عرض کیا: کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے آؤ۔“ تو میں اسے لے آیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16987
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 398، حدیث 938