المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم باب: عطاء بن یسار کی سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى غُنَيْمَةٍ تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ أَصَابَ مِنْهَا شَاةً، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً، ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: «بَلَى، ائْتِنِي بِهَا» ، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ اللهُ؟» ، فَقَالَتِ: اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي السَّمَاءِ، قَالَ: «فَمَنْ أَنَا؟» ، قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فَأَعْتِقْهَا»سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی بکریوں کی طرف گیا جنہیں میری ایک باندی احد اور جوانیہ کی طرف چرا رہی تھی، تو میں نے دیکھا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری لے گیا ہے، اور میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی ویسا ہی افسوس ہوتا ہے جیسے دوسروں کو ہوتا ہے، چنانچہ میں نے اسے ایک تھپڑ مارا، پھر رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس آیا اور آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ کو یہ بات بہت گراں گزری۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اسے میرے پاس لے آؤ۔“ تو میں اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: اللہ عزوجل آسمان میں ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مومنہ ہے، اسے آزاد کر دو۔“