المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن موهب، عن معاوية باب: عبداللہ بن موہب کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، أَنَّ ابْنَ مَوْهَبٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ مَرْوَانُ فَكَلَّمَهُ فِي حَوَائِجِهِ، فَقَالَ: اقْضِ حَاجَتِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللهِ إِنَّ مُؤْنَتِي لَعَظِيمَةٌ، إِنِّي أَصْبَحْتُ أَبَا عَشَرَةٍ وَأَخَا عَشَرَةٍ وَعَمَّ عَشَرَةٍ، فَلَمَّا أَدْبَرَ مَرْوَانُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى سَرِيرِهِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا بَلَغَ بَنُو الْحَكَمِ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا آيَاتِ اللهِ بَيْنَهُمْ دُوَلًا، وَعِبَادَهُ خَوَلًا، وَكِتَابَهُ دَغَلًا، فَإِذَا بَلَغُوا تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَرْبَعَمِائَةٍ كَانَ هَلَاكُهُمْ أَسْرَعَ مِنَ الثَّمَرَةِ» ؟، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اللهُمَّ نَعَمْ، فَذَكَرَ مَرْوَانُ حَاجَةً لَهُ فَرَدَّ مَرْوَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَكَلَّمَهُ فِيهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ مُعَاوِيَةُ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ هَذَا فَقَالَ: «أَبُو الْجَبَابِرَةِ الْأَرْبَعَةِ؟» ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اللهُمَّ نَعَمْجب مروان پیٹھ پھیر کر چلا گیا، اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے تخت پر بیٹھے تھے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اے ابن عباس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بنو الحکم تیس آدمیوں تک پہنچ جائیں گے تو وہ اللہ کی آیتوں کو آپس میں ہاتھوں ہاتھ پھیرنے کی چیز بنا لیں گے، اس کے بندوں کو غلام بنا لیں گے، اور اس کی کتاب کو دھوکے کا ذریعہ بنا لیں گے، پھر جب وہ چار سو ننانوے تک پہنچ جائیں گے تو ان کی ہلاکت پھل کے گرنے سے بھی جلد آ جائے گی“؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ! ہاں۔ پھر مروان نے اپنی کوئی حاجت ذکر کی، تو مروان بن عبدالملک اسے لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف پلٹا اور اس بارے میں ان سے بات کی، جب وہ پیٹھ پھیر کر گیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اے ابن عباس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا: ”چار جباروں کا باپ؟“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ! ہاں۔