المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن عامر اليحصبي القاري، عن معاوية باب: عبداللہ بن عامر یحصبی قاری کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16922
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: «إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ، وَإِنَّمَا يُعْطِي اللهُ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً وَأَنَا طَيِّبَةٌ بِهِ نَفْسِي فَإِنَّهُ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ شَرَهِ نَفْسٍ، وَشِدَّةِ مَسْأَلَةٍ فَهُوَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ»ترجمہ
عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے سنا: ”میں تو صرف خزانچی ہوں، دینے والا تو اللہ ہے، تو جسے میں خوش دلی سے کچھ دوں تو اس میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور جسے میں نفس کی حرص اور کثرتِ سوال کی وجہ سے کچھ دوں تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔“