المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن عامر اليحصبي القاري، عن معاوية باب: عبداللہ بن عامر یحصبی قاری کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، عَلَى الْمِنْبَرِ بِدِمَشْقَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا حَدِيثًا كَانَ يُذْكَرُ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ، فَإِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ رَجُلًا يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللهِ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَلَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
أَلَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ، وَإِنَّمَا يُعْطِي اللهُ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَإِنَّهُ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ مَسْأَلَةٍ فَهُوَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ»
أَلَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ أُمَّةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ وَلَا مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ»عبداللہ بن عامر یحصبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … سوائے اس حدیث کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیان کی جاتی تھی، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ ایسے شخص تھے جو اللہ کے معاملے میں لوگوں کو ڈراتے تھے، پھر میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: سن لو! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“
سن لو! اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میں تو صرف خزانچی ہوں، دینے والا تو اللہ ہے، تو جسے میں خوش دلی سے کچھ دوں اس کے لیے اس میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور جسے میں سوال کرنے پر کچھ دوں تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔“
سن لو! اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے دین پر قائم رہے گا، انہیں مخالفت کرنے والے یا رسوا کرنے والے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ لوگوں پر غالب ہوں۔“