المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معبد الجهني، عن معاوية باب: معبد جہنی کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16864
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْبَدًا قَالَ: كَانَ مُعَاوِيَةُ قَلَّمَا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَذْكُرُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، يُكْثِرُ أَنْ يُحَدِّثَ بِهِنَّ فِي الْجُمَعِ: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ»ترجمہ
سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے معبد رحمہ اللہ کو سنا، وہ کہتے تھے: معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے، لیکن یہ کلمات وہ جمعوں میں کثرت سے بیان کیا کرتے تھے: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے، اور یہ مال ہرا بھرا، میٹھا ہے، پس جو اسے اس کے حق کے مطابق لے تو اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور ایک دوسرے کی تعریف (مدح سرائی) سے بچو کیونکہ وہ ذبح ہے۔“