حدیث نمبر: 16840
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، وَمُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَذَكَرَ قَتْلَى أُحُدٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِمْ وَأَكْثَرَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عَبْدًا مِنْ عَبَّادِ اللهِ خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَمَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللهِ» ، فَلَمْ يَلْقَهَا إِلَّا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: نَحْنُ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، فَقَالَ: «عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ عِنْدِي فِي الصُّحْبَةِ وَذَاتِ يَدِهِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ»
ترجمہ

…معاویہ نے مجھے بتایا، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نکلے یہاں تک کہ منبر پر چڑھے، اور احد کے شہداء کا ذکر کیا، ان پر دعائے رحمت کی اور بہت زیادہ دعا کی، پھر فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو اللہ نے دنیا اور اپنے پاس جو کچھ ہے اس کے درمیان اختیار دیا، تو اس نے وہی چنا جو اللہ کے پاس ہے۔“ اس بات کو کسی نے نہ سمجھا سوائے ابوبکر کے، انہوں نے کہا: ہم آپ پر اپنے ماں باپ قربان کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ذرا ٹھہرو، اے ابوبکر! میرے نزدیک صحبت اور مال کے اعتبار سے سب لوگوں میں افضل ابن ابی قحافہ ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16840
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 342، حدیث 791