المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن معاوية باب: حمید بن عبدالرحمن بن عوف کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16789
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنَ الشَّعْرِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا، وَقَالَ: «إِنَّمَا عُذِّبَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ»ترجمہ
امام زہری رحمہ اللہ حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا، اور ان کے ہاتھ میں بالوں کی ایک لٹ تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے انہیں یہ کہتے سنا: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس جیسی چیز سے منع کرتے سنا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کو صرف اسی وقت عذاب دیا گیا جب ان کی عورتوں نے اسے اختیار کیا۔“