المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سن معاوية، ووفاته، ومن أخباره باب: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات، اور ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 16736
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ثَابِتٌ، مَوْلَى أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَرْضَ الرُّومِ، فَوَقَعَ ثَلْبٌ فِي رَحْلِهِ فَنَادَى: يَا عِبَادَ اللهِ الْمُسْلِمِينَ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَجَابَ مُعَاوِيَةَ، فَنَزَلَ وَنَزَلَ النَّاسُ، فَقَالُوا: نَكْفِي الْأَمِيرَ، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ يُغِيثُ جِبْرِيلُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ الثَّانِي»ترجمہ
ثابت رحمہ اللہ، جو ابوسفیان کے آزاد کردہ غلام تھے، کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ روم کی سرزمین میں جہاد کیا، تو کسی کے سامان میں کوئی مصیبت آ پڑی، تو اس نے پکارا: اے اللہ کے مسلمان بندو! تو سب سے پہلے جواب دینے والے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خود تھے، وہ اترے اور لوگ بھی اتر گئے، تو انہوں نے کہا: ہم امیر کی طرف سے کافی ہیں (آپ رہنے دیں)، تو انہوں نے فرمایا: ”سن لو! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ سب سے پہلے مدد کو پہنچنے والے جبریل علیہ السلام ہیں، تو میں نے پسند کیا کہ میں دوسرا ہوں۔“