حدیث نمبر: 16722
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِوَفْدِ هَوَازِنَ، بِحُنَيْنٍ، وَسَأَلَهُمْ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ النَّصْرِيِّ: «مَاذَا فَعَلَ مَالِكٌ؟» ، قَالَ: هُوَ بِالطَّائِفِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْبِرُوا مَالِكًا أَنَّهُ إِنْ يَأْتِنِي مُسْلِمًا رَدَدْتُ إِلَيْهِ أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَعْطَيْتُهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ» ، فَأَتَى مَالِكٌ بِذَلِكَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّائِفِ، وَكَانَ مَالِكٌ خَافَ ثَقِيفًا عَلَى نَفْسِهِ أَنْ يَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ لَهُ مَا قَالَ فَيَحْبِسُوهُ، فَأَمَرَ بِرَاحِلَةٍ لَهُ فَهُيِّئَتْ، وَأَمَرَ بِفَرَسٍ لَهُ فَأُتِيَ بِهِ مِنَ الطَّائِفِ، فَخَرَجَ لَيْلًا فَجَلَسَ عَلَى فَرَسِهِ فَلَحِقَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْرَكَهُ بِالْجِعْرَانَةِ أَوْ مَكَّةَ، فَرَدَّ إِلَيْهِ أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَعْطَاهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ
ترجمہ

…رسول اللہ ﷺ نے حنین کے موقع پر ہوازن کے وفد سے فرمایا، اور ان سے مالک بن عوف النصری کے بارے میں پوچھا: ”مالک نے کیا کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ طائف میں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مالک کو بتاؤ کہ اگر وہ میرے پاس مسلمان ہو کر آئے تو میں اس کے گھر والے اور مال اسے واپس کر دوں گا اور سو اونٹ عطا کروں گا۔“ چنانچہ مالک تک یہ پیغام پہنچا تو وہ طائف سے نکل کر آپ ﷺ کی طرف روانہ ہوئے، اور مالک کو ثقیف کا خوف تھا کہ اگر انہیں معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے جو کچھ کہا ہے وہ قبول کرنے جا رہے ہیں تو وہ انہیں روک لیں گے، چنانچہ انہوں نے اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور اپنا گھوڑا طائف سے منگوایا، پھر رات کے وقت نکلے، اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ سے جا ملے، اور جعرانہ یا مکہ میں آپ ﷺ سے ملاقات کی، تو آپ ﷺ نے ان کے گھر والے اور مال انہیں واپس کر دیے اور سو اونٹ عطا کیے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16722
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 302، حدیث 673