المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مالك بن عوف النصري، يكنى أبا علي باب: سیدنا مالک بن عوف نصری رضی اللہ عنہ، جن کی کنیت ابوعلی تھی
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ: مَالِكُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سَعْدِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ يَرْبُوعِ بْنِ وَاثِلَةَ بْنِ دَهْمَانَ بْنِ نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ هَوَازِنَ، قَالَ ابْنُ سَلَّامٍ: وَكَانَ مَالِكُ بْنُ عَوْفٍ النَّصْرِيُّ رَئِيسًا مِقْدَامًا، كَانَ أَوَّلَ ذِكْرِهِ وَمَا شَهَرَ مِنْ بَلَائِهِ يَوْمُ الْفِجَارِ مَعَ قَوْمِهِ، كَثُرَ صَنِيعُهُ يَوْمَئِذٍ، وَهُوَ عَلَى هَوَازِنَ حِينَ لَقِيَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ مَعَ النَّاسِ أَمْوَالَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ، فَخَالَفَهُ دُرَيْدُ بْنُ الصِّمَّةِ فَلَجَّ وَأَبَى فَصَارُوا إِلَى أَمْرِهِ فَلَمْ يَحْمَدُوا رَأْيَهُ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ رَئِيسَهُمْ، فَلَمَّا رَأَى هَزِيمَةَ أَصْحَابِهِ قَصَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ شَدِيدَ الْإِقْدَامِ لَيُصِيبَهُ زَعَمَ، فَوَافَاهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ فَقَتَلَهُ وَحَمَلَ فَرَسَهُ مَحَاجَ فَلَمْ يَقْدُمْ، ثُمَّ أَرَادَهُ وَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يَقْدُمْ، فَقَالَ:
[البحر الرجز]
اقْدُمْ مَحَاجِ إِنَّهُ يَوْمٌ نُكُرْ ... مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ يَحْمِي وَيَكُرْ
وَيَطْعَنُ الطَّعْنَةَ تَعْوِي وَتَهِرْ ... لَهَا مِنَ الْبَطْنِ نَجِيعٌ مُنْهَمِرْ
وَثَعْلَبُ الْعَامِلِ فِيهَا مُنْكَسِرْ ... إِذَا احْزَأَلَّتْ زَمْرٌ بَعْدَ زَمِرْ
ثُمَّ شَهِدَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ الْقَادِسِيَّةَ فَقَالَ:
اقْدُمْ مَحَاجِ إِنَّهَا الْأَسَاوِرَةْ ... وَلَا يَهُولَنَّكَ رَجُلٌ نَادِرَةْ
ثُمَّ انْهَزَمَ مِنْ حُنَيْنٍ فَصَارَ إِلَى الطَّائِفِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَتَانِي لَأَمَّنْتُهُ وَأَعْطَيْتُهُ مِائَةً» ، فَجَاءَ فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ وَوَجَّهَهُ إِلَى قِتَالِ أَهْلِ الطَّائِفِ، وَكَتَبَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَمِدُّهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَتَسْتَمِدُّنِي وَأَنْتَ فِي عَشْرَةِ آلَافٍ وَمَعَكَ مَالِكُ بْنُ عَوْفٍ، وَحَنْظَلَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ حَنْظَلَةُ الْكَاتِبُ، قَالَ ابْنُ سَلَّامٍ: فَحَدَّثَنِي بَعْضُ قَوْمِهِ أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْطَانِي يَتَأَلَّفُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ آخُذَ عَلَى الْإِسْلَامِ أَجْرًا، فَأَنَا أَرَدُّهَا، قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يُعْطِهَا إِلَّا وَهُوَ يَرَى أَنَّهَا لَكَ حَقًّا…جب انہوں نے قادسیہ کے بعد اسلام قبول کیا تو کہا: آگے بڑھو اے محاج! یہ اساورہ ہیں ... کوئی انوکھا آدمی تمہیں خوفزدہ نہ کرے
پھر وہ حنین سے شکست کھا کر طائف چلے گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ میرے پاس آتا تو میں اسے امان دیتا اور سو اونٹ عطا کرتا۔“ چنانچہ وہ آئے تو آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا اور انہیں اہلِ طائف سے جنگ کرنے کے لیے روانہ کیا، اور سعد بن ابی وقاص نے عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر کمک مانگی، تو انہوں نے جواب میں لکھا: تم دس ہزار لشکر میں ہو اور تمہارے ساتھ مالک بن عوف اور حنظلہ بن ربیعہ ہیں، اور یہی حنظلہ ہیں جنہیں حنظلہ الکاتب کہا جاتا تھا۔ ابن سلام کہتے ہیں: مجھے ان کی قوم کے کسی شخص نے بتایا کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اسلام پر مانوس کرنے کے لیے یہ مال عطا کیا تھا، تو میں پسند نہیں کرتا کہ اسلام پر اجرت لوں، اس لیے میں اسے واپس کر دیتا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ﷺ نے یہ اسی وقت دیا جب دیکھا کہ یہ تمہارا حق ہے۔