المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مالك أبو السائب جد عطاء بن السائب باب: سیدنا مالک، ابوسائب، عطاء بن سائب کے دادا، رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا رَاشِدُ بْنُ سَلَّامٍ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ تَمَامٍ السُّلَمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ تَمَامٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى بِئْرٍ وَإِذَا فِيهَا أَسْوَدٌ مَيِّتٌ، قَالَ: فَأَشْرَفَ فِي الْبِئْرِ، فَإِذَا هُوَ مُلْقًى فِي الْبِئْرِ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَهُ مُلْقًى فِي الْبِئْرِ؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ كَانَ جَافِيَ الدِّينِ يُصَلِّي أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا لَا يُصَلِّي، قَالَ: «وَيْحَكُمْ أَخْرِجُوهُ» ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغُسِّلَ وَكُفِّنَ، وَقَالَ: «احْمِلُوهُ» ، وَقَالَ: «لَقَدْ كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ أَنْ تَسْبِقَنَا» ، قَالَ: وَصَلَّى عَلَيْهِ…وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا ایک کنویں کے پاس سے گزر ہوا جس میں ایک سیاہ فام آدمی مردہ حالت میں تھا۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے کنویں میں جھانکا تو دیکھا کہ وہ کنویں میں پھینکا ہوا ہے، نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”اسے کنویں میں کیوں پھینکا گیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دین میں سخت لاپروا تھا، کبھی نماز پڑھتا تھا اور کبھی نہیں پڑھتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر افسوس! اسے نکالو۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ کے حکم سے اسے غسل دیا گیا اور کفن پہنایا گیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اٹھاؤ،“ اور فرمایا: ”قریب تھا کہ فرشتے ہم سے آگے بڑھ جاتے۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔