المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مالك بن عمرو القشيري، ويقال عمرو بن مالك باب: سیدنا مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ، انہیں عمرو بن مالک بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 16719
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يَفْرِي كُلُّ عُضْوٌ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ»ترجمہ
سیدنا مالک بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے دو مسلمانوں کے درمیان کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کر لیا یہاں تک کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جائے، تو اس کے لیے جنت یقینی طور پر واجب ہو گئی، اور جس نے کسی مسلمان کو آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے چھڑاؤ ہے، اس کے ہر عضو کے بدلے اس کا (آزاد کیے ہوئے کا) ہر عضو بچائے گا۔“