حدیث نمبر: 16717
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ مَالِكٌ أَوْ أَبُو مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ

سیدنا زرارہ بن اوفیٰ اپنی قوم کے ایک آدمی سے، جسے مالک یا ابومالک کہا جاتا تھا، روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے دو مسلمانوں کے درمیان کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کر لیا یہاں تک کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جائے، تو اس کے لیے جنت یقینی طور پر واجب ہو گئی، اور جس آدمی نے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو پایا پھر جہنم میں داخل ہوا تو اللہ اسے دور کرے، اور جس مسلمان آدمی نے کوئی مسلمان غلام آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے چھڑاؤ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16717
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 300، حدیث 668