المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مالك بن عمرو القشيري، ويقال عمرو بن مالك باب: سیدنا مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ، انہیں عمرو بن مالک بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 16716
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ ثُمَّ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللهُ، وَمَنْ ضَمَّ يَتْمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ اللهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»ترجمہ
سیدنا مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پایا، پھر اس کی مغفرت نہ ہوئی، تو اللہ اسے دور کرے، اور جس نے کسی یتیم کو جس کے ماں باپ فوت ہو چکے ہوں اپنے کھانے پینے میں شامل کر لیا یہاں تک کہ اللہ اسے بے نیاز کر دے، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“