❮
❯
حدیث نمبر: 1668
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى الْبَصْرَةِ حَتَّى أَتَيْنَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ بَيْتُ الْمِسْكِينِ، وَهُوَ مِنَ الْبَصْرَةِ مِثْلُ الثَّوِيَّةِ مِنَ الْكُوفَةِ، فَقَالَ: هَلْ كُنْتَ تُدَارِسُ أَحَدًا الْقُرْآنَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا أَتَيْنَا الْبَصْرَةَ فآتِنِي بِهِمْ فَأَتَيْتُهُ بِصَالِحِ بْنِ مُسَرِّحٍ وَبِأَبِي بِلَالٍ وَنَجْدَةَ وَنَافِعِ بْنِ الْأَزْرَقِ وَهُمْ فِي نَفْسِي يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفَاضِلِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ جُنْدُبٌ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْعَالِمِ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ ويَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ السِّرَاجِ يُضِيءُ لِلنَّاسِ ويَحْرِقُ نَفْسَهُ»
وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحُولَنَّ بَيْنَ أَحَدِكُمْ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَى أَبْوَابِهَا مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمِ مُسْلِمٍ أَهْرَاقَهُ ظُلْمًا» قَالَ: فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ فَذَكَرُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَهُوَ سَاكِتٌ يَسْتَمِعُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ قَوْمًا أَحَقَّ بِالنَّجَاةِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ
ترجمہ

ابوتمیمہ ہجیمی بیان کرتے ہیں: میں اور وہ (سیدنا جندب رضی اللہ عنہ) بصرہ کی طرف روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جسے بیت المسکین کہا جاتا تھا، اور وہ بصرہ میں ایسے ہی (معروف) تھی جیسے ثویہ کوفہ میں۔ تو انہوں نے پوچھا: کیا تم نے کسی کے ساتھ قرآن کا مذاکرہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: جب ہم بصرہ پہنچیں تو انہیں میرے پاس لے آنا۔ چنانچہ میں صالح بن مسرح، ابوبلال، نجدہ اور نافع بن ازرق کو لے آیا اور اس دن میرے نزدیک وہ اہل بصرہ کے فاضل ترین لوگوں میں سے تھے، تو انہوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرنا شروع کی، تو جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس عالم کی مثال جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے، اس چراغ کی طرح ہے جو لوگوں کو روشنی دیتا ہے اور خود کو جلاتا ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے اور جنت کے درمیان، جبکہ وہ اس کے دروازوں کو دیکھ رہا ہو، کسی مسلمان کے خون کا ایک چلو جو اس نے ظلماً بہایا ہو، ہرگز حائل نہ ہو۔“ پھر لوگوں نے بات کی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ذکر کیا جبکہ وہ خاموش ان کی بات سن رہے تھے، پھر فرمایا: میں نے آج جیسا کبھی نہیں دیکھا کہ کوئی قوم نجات کی اتنی مستحق ہو، اگر وہ سچے ہوں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1668
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 165، حدیث 1681