حدیث نمبر: 16671
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ وَقَالَ: «أَرَبُّ إِبِلٍ أَوْ رَبُّ غَنَمٍ؟» ، قَالَ: مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِي اللهُ فَأَكْثَرَ وَأَطْيَبَ، قَالَ: " فَتُنْتِجُهَا وَافِيَةً أَعْيُنُهَا وَآذَانُهَا تَجْدَعُ هَذِهِ فَتَقُولُ صَرْمَاءُ - ثُمَّ تَكَلَّمَ سُفْيَانُ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا - وَتَقُولُ: بَحِيرَةُ اللهِ، وَسَاعِدُ اللهِ أَشَدُّ، وَمُوسَى اللهِ أَحَدُّ، وَلَوْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَكَ بِهِ صَرْمَاءَ آتَاكَ "
قُلْتُ: إِلَى مَا تَدْعُو؟، قَالَ: «إِلَى اللهِ وَالرَّحِمِ» ، قُلْتُ: يَأْتِينِي الرَّجُلُ مِنْ بَنِي عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ ثُمَّ أَفْعَلُ، قَالَ: «فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ أَحَدُهُمَا يُطِيعُكَ وَلَا يَخُونُكَ وَلَا يَكْذِبُكَ وَالْآخَرُ يَخُونُكَ وَيَكْذِبُكَ، الَّذِي يُطِيعُكَ وَلَا يَكْذِبُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمِ الَّذِي يَخُونُكَ وَيَكْذِبُكَ؟» ، قُلْتُ: لَا، بَلِ الَّذِي لَا يَخُونُنِي وَلَا يَكْذِبُنِي وَيَصْدُقُنِي الْحَدِيثَ أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ: «كَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ»
ترجمہ

سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ پر نظر اوپر سے نیچے تک دوڑائی اور فرمایا: ”اونٹوں کے مالک ہو یا بکریوں کے؟“ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال جو اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے، بہت زیادہ اور عمدہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیا تم انہیں پورے کانوں اور آنکھوں کے ساتھ جنواتے ہو، پھر ان میں سے کچھ کے کان کاٹ کر کہتے ہو صرماء“ — پھر سفیان نے ایک ایسا لفظ کہا جو میں نہ سمجھ سکا — ”اور کہتے ہو یہ اللہ کی بحیرہ ہے، حالانکہ اللہ کا بازو زیادہ مضبوط ہے اور اللہ کی چھری زیادہ تیز ہے، اور اگر وہ چاہتا کہ وہ تمہیں کان کٹا ہی پیدا ہو کر دے تو ایسا ہی کر دیتا۔“
میں نے عرض کیا: آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی طرف اور صلہ رحمی کی طرف۔“ میں نے عرض کیا: میرے چچا زاد میں سے کوئی آدمی میرے پاس آتا ہے تو میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اسے کچھ نہیں دوں گا، پھر (پچھتا کر) دے دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو، اور جو بہتر ہو وہ کرو، تم بتاؤ اگر تمہارے دو غلام ہوں، ایک تمہاری اطاعت کرے، تمہیں دھوکہ نہ دے اور نہ جھوٹ بولے، اور دوسرا تمہیں دھوکہ دے اور جھوٹ بولے، تو جو تمہاری اطاعت کرے اور جھوٹ نہ بولے وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا وہ جو دھوکہ دے اور جھوٹ بولے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ وہ جو مجھے دھوکہ نہ دے اور نہ جھوٹ بولے اور سچی بات کرے وہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی اپنے رب کے نزدیک ایسے ہی ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16671
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 282، حدیث 622